مکّار ہوں
میں گنہگار ہوں، میں خطاکار ہوں
لوگ سچ ہی کہتے ہیں کہ میں مکّار ہوں
ہاں
میں گنہگار ہوں، میں خطاکار ہوں
لوگ سچ ہی کہتے ہیں کہ میں مکّار ہوں
ہر بات پہ میں آلسی بنتا چلا گیا
اپنے ہاتھوں سے ہی مستقبل کو جلا گیا
ذمہ داریوں سے میں منہ موڑتا رہا
ہر وعدے کو کر کے میں توڑتا رہا
ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کے بس سوچتا رہا
اپنی قسمت کو بیٹھ کر میں کوستا رہا
محنت کرنے سے میں شرماتا رہا
ہر کام کرنے سے خود کو میں روکتا رہا
پاپا کی pocket money پہ پلتا رہا
نہ جانے کس کے نقشِ قدم پہ چلتا رہا
بلا ل نے ان کا کہنا کبھی مانا نہیں
ہمیشہ اپنے من کی ہی یہ کرتا رہا
چھوٹے چھوٹے کام میں دکھاتا attitude
باتیں بڑی بڑی مگر ہوتا نہیں کچھ
میں نے سب کو ہمیشہ دکھ ہی دیے
میرے باعث کبھی کوئی ہو پایا نہیں خوش
آتے تھے مجھے ماں باپ سمجھانے
بنانے لگا میں ہر بات پہ بہانے
سیدھے منہ میں نے کبھی بات نہیں کی
کرنے لگ جاتا میں منہجوری ان کے سامنے
خوشیوں کے دو پل نہ دے پایا کبھی
میری وجہ سے انہیں فخر ہوا نہ کبھی
بلکہ ہوئی ان کی ہر جگہ بدنامی
انہوں نے فخر سے سر کبھی اٹھایا ہی نہیں
ذمہ داریوں سے آنکھیں میں نے موڑ لی
خود اپنی گمراہی میں نے چن لی
خدا نہ دے کسی کو بھی ایسی اولاد
جیتے جی موت کی ہی ملتی ہے سوغات
future پہ میں نے کبھی دھیان نہ دیا
سارا وقت میں نے ایسے ہی گوا دیا
میں گنہگار ہوں، میں خطاکار ہوں
لوگ سچ ہی کہتے ہیں کہ میں مکّار ہوں
ہاں
میں گنہگار ہوں، میں خطاکار ہوں
لوگ سچ ہی کہتے ہیں کہ میں مکّار ہوں
ماں باپ کا میں نہ سمجھ پایا مقام
افسوس ہوتا ہے مجھے
وہ کچھ کہتے تو بند کر لیتا تھا کان
اور نہ کمانے پر دیا میں نے کبھی دھیان
ان پیسوں کی تنگی نے بے حال کر دیا
اوپر سے ہمارا تھا کرائے کا مکان
پھر بھی دن میں بے فکری سے میں گھومتا رہا
بغیر محنت کے کامیابی میں ڈھونڈتا رہا
رشتہ داروں کے طعنے بھی پڑتے رہے
چپ ہوکر ہر بات کو میں سنتا رہا
ماں باپ کی عزت کو مٹی میں ملا دی
نظرانداز کیا، جو بھی انہوں نے صلاح دی
ان کا نام کبھی روشن نہ کر سکا
پھر بھی انہوں نے مجھے بھلے کی دعا دی
رات کے اندھیرے میں، ذمہ داریاں ستاتی
پھر کچھ کرنے کی مجھ میں امنگ جاگ جاتی
کہ صبح اٹھ کر تو میں کچھ کر ہی ڈالوں گا
جو کہیں گے ماں باپ، ویسا ہی میں کروں گا
مگر یہ سب صرف میرے بناوٹی بول تھے
پھر بھول جاتا یہ سب، ایک نیند سو کے
صبح ہوتے ہی سب نشہ اتر جاتا
کچھ کرنے کا جنون بھی پگھل جاتا
ایسے ہی نہ جانے کتنے دن ڈھل گئے
وہ کاغذ کے سارے میرے وعدے گل گئے
بلا ل سے سب نے منہ پھیر لیا
خاص دوست بھی مجھے چھوڑ کر چلے گئے
نہ جانے مجھ میں کتنی تھی برائی
میں نے ہر بار ماں باپ کی ناک کٹوائی
میری وجہ سے وہ نظریں اٹھا نہ سکے
پر اس بلا ل کو شرم تک نہیں آئی
میں گنہگار ہوں، میں خطاکار ہوں
لوگ سچ ہی کہتے ہیں کہ میں مکّار ہوں
ہاں
میں گنہگار ہوں، میں خطاکار ہوں
لوگ سچ ہی کہتے ہیں کہ میں مکّار ہوں
ہاں میں مکّار ہوں
بلا ل انصاری