Continues after the ad

    تیرے ہاتھوں کی طرف
    میرے ہاتھوں کا سفر
    روزانہ، روزانہ
    تیری آنکھوں سے کہے
    کچھ تو میری نظر
    روزانہ، روزانہ

    روزانہ میں سوچو یہی
    کہاں آج کل میں ہوں لپٹا
    تجھے دیکھ لو تو ہنسنے لگے
    میرے درد بھی کیوں خامخاہ

    ہواوں کی طرح
    مجھے چھوکے تو گزر
    روزانہ، روزانہ
    تیرے ہاتھوں کی طرف
    میرے ہاتھوں کا سفر
    روزانہ، روزانہ

    ان آنکھوں سے یہ بتا
    کتنا میں دیکھوں تجھے
    ان آنکھوں سے یہ بتا
    کتنا میں دیکھوں تجھے
    رہ جاتی ہے کچھ کمی
    جتنا بھی دیکھو تجھے

    Continues after the ad

    روزانہ میں سوچو یہی
    کہ جی لونگی میں بے سانس بھی

    ایسے ہی تو مجھے
    ملتا رہے اگر
    روزانہ، روزانہ
    تیرے ہاتھوں کی طرف
    میرے ہاتھوں کا سفر
    روزانہ، روزانہ

    یوں آ ملا تو مجھے
    جیسے تو میرا ہی ہے
    آرام دل کو جو دے
    وہ ذکر تیرا ہی ہے

    روزانہ میں سوچو یہی
    کہ چلتی رہیں باتیں تیری

    آتے جاتے یوں ہی
    میرے لیے ٹھہر
    روزانہ، روزانہ
    تیرے ہاتھوں کی طرف
    میرے ہاتھوں کا سفر
    روزانہ، روزانہ
    روزانہ، روزانہ

    Song details

    Composition: Manoj Muntashir and Rochak Kohli

    Did you see an error?

    Enviar revisão