Rozana
Shreya Ghoshal
Continues after the ad
تیرے ہاتھوں کی طرف
میرے ہاتھوں کا سفر
روزانہ، روزانہ
تیری آنکھوں سے کہے
کچھ تو میری نظر
روزانہ، روزانہ
روزانہ میں سوچو یہی
کہاں آج کل میں ہوں لپٹا
تجھے دیکھ لو تو ہنسنے لگے
میرے درد بھی کیوں خامخاہ
ہواوں کی طرح
مجھے چھوکے تو گزر
روزانہ، روزانہ
تیرے ہاتھوں کی طرف
میرے ہاتھوں کا سفر
روزانہ، روزانہ
ان آنکھوں سے یہ بتا
کتنا میں دیکھوں تجھے
ان آنکھوں سے یہ بتا
کتنا میں دیکھوں تجھے
رہ جاتی ہے کچھ کمی
جتنا بھی دیکھو تجھے
Continues after the ad
روزانہ میں سوچو یہی
کہ جی لونگی میں بے سانس بھی
ایسے ہی تو مجھے
ملتا رہے اگر
روزانہ، روزانہ
تیرے ہاتھوں کی طرف
میرے ہاتھوں کا سفر
روزانہ، روزانہ
یوں آ ملا تو مجھے
جیسے تو میرا ہی ہے
آرام دل کو جو دے
وہ ذکر تیرا ہی ہے
روزانہ میں سوچو یہی
کہ چلتی رہیں باتیں تیری
آتے جاتے یوں ہی
میرے لیے ٹھہر
روزانہ، روزانہ
تیرے ہاتھوں کی طرف
میرے ہاتھوں کا سفر
روزانہ، روزانہ
روزانہ، روزانہ